اتوار 14 جون 2026 - 10:41
ہندوستانی تجارتی کشتیوں پر امریکی جارحیت اور ہماری عالمی ساکھ اور حیثیت پر اس کے اثرات

حوزہ/ ہندوستانی ملاحوں کے خون سے رنگا عمان کے ساحل کے قریب کا پانی آج دنیا سے ایک سوال پوچھ رہا ہے: کیا امریکہ واقعی دوست ہے یا اپنی بالادستی کے لیے ہر حد پار کرنے والی طاقت؟ جن جہازوں پر ہندوستانی شہری سوار تھے، انہیں نشانہ بنا کر واشنگٹن نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی میں مفادات کی اہمیت انسانی جانوں اور دوستی کے دعووں سے کہیں زیادہ ہے۔

تحریر: مولانا سید محمد فائز باقری، حوزہ علمیہ قم المقدسہ

حوزہ نیوز ایجنسی | برطانوی استعمار کے پنجوں سے آزادی کے بعد سرد جنگ کے دوران ناوابستہ تحریک میں ہندوستان کی صحیح قیادت اور درست ردعمل نے ہندوستان کا عالمی چہرہ بہت مثبت پیش کیا تھا اور عالمی سطح پر ہندوستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا تھا جو یورپی استعمار اور امریکی سامراجیت کے مدمقابل مظلوموں کا حامی ملک ہے لیکن ہندوستانی افق پر سیاسی تبدیلیوں، ملک میں جاری غلط پالیسیوں اور مذہبی تشدد کی بنیاد پر سیاسی گلیاروں تک رسائی کی غلط رسم نے، ملک کی عالمی ساکھ اور حیثیت کو مجروح کیا جس کے نتیجے میں ملک کی عالمی سیاست اور ترجیحات بھی تبدیل ہونے لگیں اور ملک امریکی و اسرائیلی چنگل میں پھنستا چلا گیا اور بجائے اس کے کہ اس سیاست کی بناپر ملک کو فائدہ ہوتا برعکس ملک کی سیاسی حیثیت کمزور پڑنے لگی اقتصادی روابط خراب ہونے لگے اجتماعی اتحاد کو نقصان پہنچا اور آج ہندوستان اس دوراہے پر کھڑا ہے کہ ایک طرف سے اپنے سیاسی اور اقتصادی معاملات میں امریکی چشم و ابرو کا منتظر رہے اور امریکی اشاروں پر ناچے جہاں امریکی حکومت روک دے اس ملک سے اقتصادی روابط توڑ لے چاہے ملک اور عوام کو کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑھے، سیاسی اور عالمی پیمانے پر بھی امریکی سیاست کو مدنظر قرار دے چاہے کتنے ہی دیرینہ روابط خراب کیوں نہ ہوں، یا ظلم کا ساتھ دینا پڑے، اور دوسری جانب سے امریکا مسلسل توہین کرتا ہے ہندوستانی لوگوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر ملک بدر کرتا ہے جبکہ یہی رویہ چین کے ساتھ روا نہیں رکھتا اور ملک اور قیادت کی توہین کرتا ہے مذاق اڑاتا ہے اور اسی سلسلے کا نیا واقعہ گذشتہ دنوں عمان کے ساحل کے قریب پیش آیا تھا، جہاں تیل بردار تجارتی جہاز ’ایم ٹی سیٹے بیلو‘ امریکی بحریہ کے حملے کی زد میں آ گیا، اس جہاز پر مجموعی طور پر 24 ہندوستانی عملے کے ارکان سوار تھے۔ حملے کے بعد جہاز میں افراتفری مچ گئی اور فوری طور پر امدادی و بچاؤ کارروائیاں شروع کی گئیں امدادی کارروائیوں کے نتیجے میں 21 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت بچا لیا گیا، تاہم تین ملاح لاپتا ہو گئے تھے۔ بعد ازاں ان تینوں کی ہلاکت کی سرکاری طور پر تصدیق کر دی گئی۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت ڈیک کیڈٹ آدتیہ شرما، انجن فٹر شیوانند چورسیا اور چیف انجینئر پٹنالا سریش کے طور پر کی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق آٹھ جون کو پلاؤ کے پرچم والے تیل بردار جہاز ’میری ویکس‘ کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس پر 24 ہندوستانی ملاح سوار تھے۔ اس حملے میں تمام افراد محفوظ رہے۔ اس کے بعد 10 جون کو ’سیٹے بیلو‘ نامی ایک اور ٹینکر پر حملہ ہوا، جس میں 24 ہندوستانی ملاحوں میں سے تین ہلاک ہو گئے۔ جمعرات کو "جل ویر" نامی ایک اور جہاز بھی کارروائی کی زد میں آیا، جس پر 20 ہندوستانی شہری سوار تھے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ’جل ویر‘ نے امریکی احکامات پر عمل نہیں کیا تھا، جس کے بعد ایک جنگی طیارے نے اس کے انجن والے حصے پر دو میزائل داغے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز ایرانی تیل کی نقل و حمل کے ذریعے امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔

اس امریکی جارحیت نے ہندوستان میں قومی حمیت کو بیدار کر دیا اور اس امریکی داداگیری کے مقابل قوم میں شدید غم و غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے، میڈیا بھی اس عوامی رخ کو دیکھتے ہوئے اس حادثہ کی مذمت کر رہا ہے اور حکومت ہند نے سفارتی سطح پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ نئی دہلی میں تعینات امریکی ناظم الامور جیسن میکس کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا اور اس معاملے پر ہندوستان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بھی کہا کہ ہندوستانی عملے کے ارکان کو لے جانے والے تجارتی جہازوں کے خلاف امریکی بحریہ کی ایسی کارروائیاں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے مارکو روبیو سے گفتگو کے دوران خلیج میں امریکی بحریہ کے حملوں کے خلاف ہندوستان کا سخت احتجاج دہرایا۔ ان کے بقول ان حملوں میں تین ہندوستانی ملاح ہلاک ہوئے ہیں اور تجارتی جہاز رانی کے خلاف اس طرح کی جان لیوا کارروائیاں کسی بھی صورت میں درست نہیں ہیں۔

دریں اثنا کانگریس نے بھی اس معاملے پر مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران تین مختلف تجارتی جہاز امریکی کارروائیوں کا شکار ہوئے ہیں، جن میں تین ہندوستانی ملاح ہلاک ہوئے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بارے میں ایک لفظ تک نہیں کہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کمپرومائزڈ پی ایم ’بھارت ماتا‘ کے بیٹوں کی حفاظت نہیں کر سکتا کیونکہ ان کی جان لینے والوں کو ناراض کرنے کی نہ اس میں ہمت ہے اور نہ ہی طاقت۔ کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر مؤثر سفارتی اقدامات کرے اور ذمہ داروں سے جواب طلب کرے، ان کا کہنا تھا کہ جب کسی غیر ملکی طاقت کی کارروائی میں ہندوستانی شہری مارے جائیں تو وزیر اعظم کو واضح موقف اختیار کرنا چاہیے۔

اس سے قبل کانگریس پارٹی بھی امریکی فوجی کارروائیوں کی مذمت کر چکی ہے۔ پارٹی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں سفارتی سطح پر مؤثر اقدامات کرے اور ذمہ داری کا تعین کرائے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہیں تو پھر ایسے واقعات پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی جن میں ہندوستانی شہریوں کی جانیں ضائع ہوئی ہوں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جناب اسماعیل بقائی نے بھی ہندوستانی تجارتی جہازوں پر امریکی حملوں کو شدید الفاظ میں ہدفِ تنقید بناتے ہوئے اسے امریکہ کی جاری پالیسی کا کھلا ثبوت قرار دیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین ہندوستانی شہریوں کی جانیں گئیں، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ امریکہ "مسلح لوٹ مار" اور "ریاستی قزاقی" جیسی روش پر قائم ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ عالمی سطح پر قائم اصولوں کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

اسماعیل بقائی نے جاں بحق ہونے والے بھارتی ملاحوں کے اہلِ خانہ اور دوستوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی عوام اور حکومت کے ساتھ تعزیت پیش کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha